محنت کی عظمت: Mehnat ki Azmat (اشعار کے ساتھ منفرد اور طویل تحریر)
کائنات کے
اس عظیم کارخانے پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سکون اور
ٹھہراؤ نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے۔ صبح کا سورج اپنی پہلی کرن کے ساتھ ہی
انسان کو عمل کی دعوت دیتا ہے، پرندے اپنے گھونسلوں سے رزق کی تلاش میں اڑان بھرتے
ہیں، اور سمندر کی لہریں ساحلوں سے ٹکرا کر یہ پیغام دیتی ہیں کہ زندگی صر
ف اور
صرف مسلسل حرکت کا نام ہے۔ انسان کو جب اس دھرتی پر اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا
گیا، تو اس کے ساتھ ہی محنت اور مشقت کو اس کی بقا کا لازمی حصہ بنا دیا گیا۔ جو
شخص اس ابدی سچائی کو سمجھ لیتا ہے، کامیابی اس کے قدم چومتی ہے اور جو ہاتھ پر
ہاتھ دھرے بیٹھا رہتا ہے، وقت کی تیز لہریں اسے کچرے کی طرح بہا کر لے جاتی ہیں،
کیونکہ دنیا میں عظمت کا اگر کوئی دوسرا نام ہے تو وہ صرف اور صرف انسان کا اپنا
بہایا ہوا پسینہ ہے۔
مشقت کی ذلت جنہیں مصلحت ہے
انہیں کے لیے پھر ذلت ہی ذلت ہے
حقیقت ہے یہ کہ عظمت صرف محنت ہے
جو کرتا ہے محنت، پاتا ہے راحت
اس کائنات
کے خالق نے انسان کو پیدا کر کے یونہی بے مقصد نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اسے اپنی زندگی
سنوارنے کا پورا اختیار اور طریقہ بھی سکھایا۔ قرآنِ مجید کی وہ لافانی آیت جس میں
صاف کہہ دیا گیا کہ انسان کے لیے کچھ نہیں مگر وہی جس کی اس نے کوشش کی، دراصل
انسانی زندگی کا سب سے بڑا ضابطہ ہے۔ جب ہم تاریخِ اسلام کے سب سے روشن دور کو
دیکھتے ہیں، تو ہمارے سامنے کائنات کی سب سے افضل ترین ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا
اسوہِ حسنہ آتا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف اپنی زبانِ مبارک سے محنت کرنے والے کو اللہ کا
دوست (الکاسِبُ حَبِیبُ اللہ) قرار دیا، بلکہ اپنے عمل سے اس کی لاج بھی رکھی۔
مدینے کی تپتی دھوپ میں عام صحابہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر پتھر اٹھانا اور
خندق کھودنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے میں کوئی عار یا شرم
نہیں ہے، بلکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو وقار بخشتا ہے۔
جہانِ مصلحت میں ہے وہی انسان عالی قدر
جو اپنے ہاتھ کی محنت سے پاتا ہے وقار اپنا
اگر ہم
مذہبی دائرے سے نکل کر دنیا کے مادی عروج اور زوال کی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو
وہاں بھی ہمیں محنت کا یہی جادو سر چڑھ کر بولتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج جو قومیں
معیشت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا پر راج کر رہی ہیں، انہوں نے یہ
مقام کسی معجزے یا لاٹری کے ذریعے حاصل نہیں کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا جاپان
اس کی سب سے بڑی اور زندہ مثال ہے، جہاں ایٹم بم کے دھماکوں نے عمارتوں کے ساتھ
ساتھ ان کی امیدوں کو بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا؛ مگر اس تباہ حال قوم نے رونے
دھونے اور مانگنے کے بجائے کارخانوں اور کھیتوں کا رخ کیا اور دن رات ایک کر کے
دنیا کو حیران کر دیا۔ چین اور امریکہ کے شہریوں نے بھی سستی اور کاہلی کو اپنے
قریب نہیں پھٹکنے دیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عروج ہمیشہ اسی کا مقدر بنتا ہے جو
راتوں کی نیند قربان کر کے محنت کی شمع جلاتا ہے۔
عروج پایا ہے جس نے بھی کائنات کے اندر
وہ اپنے خونِ جگر سے چراغ جلاتا ہے
پاکستان کے
تناظر میں اگر دیکھا جائے، تو بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں
"کام، کام اور بس کام" کا جو سنہری اصول دیا تھا، وہ دراصل اسی فلسفہِ
محنت کا نچوڑ تھا۔ ہم ایک آزاد ملک تو بن گئے، لیکن اگر ہم اسے ایک مضبوط اور
خوددار ریاست بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس شارٹ کٹ (Short-cut) کلچر، سفارش اور کاہلی سے جان
چھڑانی ہوگی جس نے ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے۔ حکیم الامت علامہ
اقبال نے بھی ہمیں آرام پسندی کے خلاف ابھارا اور مسلسل جدوجہد کا درس دیا، کیونکہ
دانہ جب تک خاک میں مل کر خود کو نہیں مٹاتا، تب تک وہ کبھی ایک ہرا بھرا اور
پھلدار درخت نہیں بن سکتا۔
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
خلاصہ یہ
ہے کہ انسانی تاریخ میں عظمت اور رفعت کا کوئی بھی محل محنت کی بنیاد کے بغیر کھڑا
نہیں ہو سکا۔ جو قومیں یا افراد آرام پسندی کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، وہ وقت کی
دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان کا نام و نشان تک مٹ جاتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے
انفرادی مستقبل کو سنوارنا ہے اور اپنے پیارے ملک پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک
غیرت مند اور خوشحال ملک کے طور پر کھڑا کرنا ہے، تو ہمیں سستی کے تمام بتوں کو
توڑ کر عمل کے میدان میں اترنا ہوگا۔ منزل تک پہنچنے کا واحد اور آخری راستہ صرف
اور صرف محنت کی شاہراہ سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔
ستارے چمکتے ہیں انہی کے مقدر کے
جو راتوں کو جاگ کر صبح کا نور بنتے ہیں

No comments:
Post a Comment